قرآن وسنت کی تعلیمات کی روشنی میں
قرآن وسنت کی تعلیمات کی روشنی میں
اسلام کا قانونِ محنت
ایک ایسے وقت میں جب لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کے لیے قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کی روایات کو غلط انداز اور توڑ موڑ کر بیان کیا جا رہا ہو ہماری اس کاوش کا مقصد ریکارڈ کو درست کرنا اور یہ ظاہر کرنا ہے کہ قرآن کریم اور سنت مبارکہ میں مزدوروں کے حقوق کی حفاظت اور بہتری کو کس قدر اہمیت دی گئی ہے۔مسلم ممالک میں لیبر قوانین پر نظر ثانی کی شدید ضرورت ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہماری یہ کاوش مسلم ممالک کی حکومتوں ، تنظیموں اور افراد کو مزدوروں کے حقوق کے طریقہٴ کار اور سوچ کو دوبارہ مرتب کرنے میں بنیاد فراہم کر سکتی ہے اور مروجہ قوانین کو شریعت کی روح اور عالمی معیاراتِ محنت سے ہم آہنگ کر سکتی ہے ۔، اس کتاب کا مقصد دراصل ان 26 یا کم از کم 14 ممالک کی توجہ قرآن وسنت میں دیئے گئے اصولوں کی طرف مبذول کروانا ہے تاکہ قوانینِ محنت کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔
اس کاوش کو مرتب کرنے کے لیے قوانین ِ محنت کے تقابلی مطالعے (comparative labour law) اور انسانی وسائل(human resources)میں ہمارا تجربہ پچھلے 18 سالوں پر محیط ہے ، امید واثق ہے کہ اس کا استعمال نہ صرف حکومتوں کو قوانین سازی میں اصلاحات کے لیے بلکہ ترقی پسند کاروباری اداروں کو بھی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنے مزدوروں کے حقوق کی ادائیگی اور آگاہی میں ممد ومعاون ثابت ہوگا۔ تاہم اس کتاب کا حتمی مقصد اس موضوع سے متعلق اسلامی احکامات کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔
اسلام کا قانونِ محنت
قرآن وسنت کی تعلیمات کی روشنی میں
اسلام کا قانونِ محنت یا اسلامک لیبر کوڈ قرآن اور سنت کی تعلیمات پر مبنی ایک پروٹوٹائپ(prototype) ہے جس پر کام جاری ہے۔ مجوزہ اسلامک لیبر کوڈ مزدوروں کے مساوی حقوق کے بارے میں اسلام کے نقطہٴ نظر کی بصیرت کی بین دلیل ہے ۔اس میں جنس ، مذہب و نسل وغیرہ سے قطع نظر ہراساں کرنے کی ممانعت بشمول جنسی ہراسانی، اتحاد سازی اور اجتماعی سودے بازی کا حق، بچوں سے مشقت کی ممانعت، بیگار اور جبری مشقت کی ممانعت، پیشہ ورانہ حفاظت اور صحت اور سماجی تحفظ کا حق جیسے اہم حقوق شامل ہیں۔